صابر ؔ کھیڑ لوی
درد گر مرے دِل کو اختلاج رکھتا ہے
زہر جیسے کہ تاثیرِ علاج رکھتا ہے
آج اُس سے مل کر یوں احساس ہوا مجھ کو
پھول ہے مگر کانٹوں سا مزاج رکھتا ہے
عکس جس میں سب کے کردار کا اُبھر تا ہے
ایسا آئینہ ہاتھوں میں سماج رکھتا ہے
سُرخرو یہاں ہوتا ہے سدا وہی انساں
عمر بھر جو کہ کل کی فکر آج رکھتا ہے
انتشارقدروں کا جب یہاں چلن ٹھرے
کون پھر خیالِ رسم و رواج رکھتا ہے
بے قرار رہتی ہیں ایک اک کرن صاؔبر
جب تلک اُفق مُٹّھی میں سراج رکھتا ہے